سوزن عیسی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - حضرت عیسی علیہ السلام کی سُوئی جسے وہ مسیحائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔"  کیسا علاج، چارہ کہاں، کھائے ہیں وہ زخم ٹانکوں میں جن کے سوزنِ عیسی رواں نہیں      ( ١٨٧٩ء، سالک (مرزا قربان علی بیگ)، کلیات، ١١٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم آلہ 'سوزن' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت بڑھا کر عربی سے اسم علم 'عیسی' بطور مضاف الیہ بڑھانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حضرت عیسی علیہ السلام کی سُوئی جسے وہ مسیحائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔"  کیسا علاج، چارہ کہاں، کھائے ہیں وہ زخم ٹانکوں میں جن کے سوزنِ عیسی رواں نہیں      ( ١٨٧٩ء، سالک (مرزا قربان علی بیگ)، کلیات، ١١٨ )

جنس: مؤنث